تاریخ

آزادی کے وقت پاکستان میں سپیشل بچوں کے لیے صرف دو ادارے، ایک لاہور میں سماعت سے محروم افراد اور دوسرا بہاولپور میں نابینا افراد کے لیےموجود تھے جو محکمہ تعلیم کے ماتحت کام کر رہے تھے۔ صوبے میں نجی شعبے کی تنظیموں کے ذریعے سماعت سے محروم بچوں اور بصارت سے محروم بچوں کے لیے چند ادارے بھی چلائے جا رہے ہیں۔ 1962ءمیں محکمہ تعلیم کے تحت انسپکٹر آف دی ڈیف، ڈمب اینڈ بلائنڈ سکولز کا قیام عمل میں آیا جسے 1968ء میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی سربراہی میں بہرے، گونگے اور نابینا ونگ کا درجہ دے دیا گیا۔ ان اداروں کو 1975 مںا مارشل لاء ریگولشنوMLR-118 کے تحت سونپاگاگ۔محکمہ تعلیم نے ان اداروں کو اپنے قبضے میں لیا اور عمارتوں کی تعمیر اور تربیت یافتہ اساتذہ کے ساتھ عملہ دینے کے لیے مختلف اسکیمیں شروع کیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف سپیشل ایجوکیشن پنجاب کو 1983-84 کے دوران محکمہ تعلیم کے منسلک محکمہ کا درجہ دیا گیا۔محکمہ خصوصی تعلیم کو 2003-04 کے دوران ایک آزاد انتظامی محکمے کے طور پر قائم کردیا گیا تھا۔سپیشل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے خودمختار شعبہ کے قیام سے قبل صوبے میں 51 ادارے تھے جن میں 4265 خصوصی بچوں داخل تھے جن کی تعداد اس وقت  بڑھ کر 303 تک پہنچ چکی ہے جن میں تقریباً 39000 خصوصی بچےزیر تعلیم ہیں۔  ان اداروں میں18ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں وفاقی حکومت کے خصوصی تعلیم کے 20 ادارے بھی شامل ہیں۔ اس وقت پنجاب میں ہر تحصیل اور ٹاؤن کی سطح پر خصوصی ادارے کام کر رہے ہیں۔